نئی دہلی ، یکم مارچ (ایس او نیوز؍یو این آئی) کورونا کی تیسری لہر کے باعث معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کی وجہ سے حکومت نے رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں 5.4 فیصد کی شرح نمو کی وجہ سے جی ڈی پی کی شرح نمو کے تخمینہ کو گھٹا کر 9.2 فیصد کر دیا ہے۔ دوسرے پیشگی تخمینہ میں اسے کم کر کے 8.9 فیصد کر دیا گیا ہے۔
قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) نے آج دوسرا پیشگی تخمینہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں دسمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 5.4 فیصد رہی ہے۔ اس مدت کے دوران جی ڈی پی 38.22 لاکھ کروڑ روپے رہی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 36.26 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس طرح اس میں 5.4 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 8.5 فیصد اور پہلی سہ ماہی میں 20.1 فیصد رہی۔اس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال میں ملک کی جی ڈی پی 147.72 لاکھ کروڑ روپے رہنے کا امکان ہے، جو پچھلے مالی سال کے 135.58 لاکھ کروڑ روپے کے جی ڈی پی سے 8.9 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال میں جی ڈی پی میں 6.6 فیصد کی منفی شرح نمو تھی۔ موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی 19.4 فیصد کی شرح سے بڑھنے کا امکان ہے۔ پچھلے مالی سال میں 198.01 لاکھ کروڑ روپے کے مقابلے بڑھ کر 236.44 لاکھ کروڑ روپے ہونے کا اندازہ ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ زراعت، جنگلات اور ماہی پروری کا شعبہ رواں مالی سال میں 9.8 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گا۔ اسی طرح کان کنی 59.4 فیصد، مینوفیکچرنگ 22.8 فیصد، بجلی، گیس، پانی کی فراہمی اور دیگر یوٹیلٹی سروسز 12.4 فیصد، تعمیرات 29.4 فیصد، تجارت، ہوٹل، ٹرانسپورٹ، مواصلات اور نشریاتی خدمات 23.6 فیصد، فائنانس، رئیلٹی اور پیشہ ورانہ خدمات 12.9 فیصد اور پبلک ایڈمنسٹریشن، ڈیفنس اور دیگر سروسز میں 18.2 فیصد کی شرح سے ترقی متوقع ہے۔